امریکی ٹورسٹ یا بزنس ویزا کے لیے درخواست دینے والے پاکستانی مسافر کچھ سکون کی سانس لے سکتے ہیں: نیا مستقل US Visa Bond Program، جو یکم اگست 2026 سے نافذ العمل ہوا، اپنی 50 شامل ممالک کی لسٹ میں پاکستان کو شامل نہیں کرتا۔
US Visa Bond Program اصل میں کیا مانگتا ہے
نئے مستقل قانون کے تحت، امریکی قونصلر افسران 50 مخصوص ممالک کے منتخب B-1 بزنس ویزا اور B-2 ٹورسٹ ویزا درخواست دہندگان سے ویزا جاری ہونے سے پہلے واپسی کے قابل مالی bond مانگ سکتے ہیں۔ Bond کی رقم 10,000 سے 20,000 ڈالر تک ہے — جو پچھلے pilot کی 15,000 ڈالر کی زیادہ سے زیادہ حد سے بڑھائی گئی ہے، اور پہلے موجود 5,000 ڈالر کی کم از کم آپشن مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔
یہ ہر شامل ملک کے درخواست دہندہ کے لیے خودکار نہیں۔ قونصلر افسران ویزا جاری کرنے سے پہلے ہر کیس کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں کہ bond کی ضرورت ہے یا نہیں۔
کیا پاکستان US Visa Bond List میں شامل ہے؟ یہاں سیدھا جواب ہے
نہیں — پاکستان US Visa Bond Program کی 50 ممالک کی لسٹ میں شامل نہیں ہے۔ یہ لسٹ، جو US Federal Register میں شائع ہوئی، اس میں پاکستان کا نام نہیں، اور سفارتی ذرائع نے پاکستانی میڈیا کو براہ راست اس کی تصدیق کی ہے۔ اگر آپ پاکستانی شہری ہیں اور B-1 یا B-2 امریکی ویزا کے لیے درخواست دے رہے ہیں، تو یہ مخصوص bond کی شرط آپ پر لاگو نہیں ہوتی۔
Visa Bond Program کو مستقل کیوں بنایا گیا
State Department کی justification اس پروگرام کے 2025 pilot ورژن کے overstay ڈیٹا پر مرکوز ہے:
| پیمانہ | Pilot سے پہلے (2024) | Pilot کے دوران (پہلے 10 مہینے) |
|---|---|---|
| 50 ممالک سے ویزا overstays | 45,488 | 50 سے بھی کم |
حکام کا کہنا ہے کہ overstays میں یہ ڈرامائی کمی، امریکی امیگریشن قوانین کی بہتر پابندی کے ساتھ، اس فیصلے کی وجہ بنی کہ visa bond کی شرط کو ایک عارضی pilot کی بجائے مستقل، جاری پالیسی بنایا جائے۔
Visa Bond Program میں کون سے ممالک شامل ہیں
لسٹ میں شامل 50 ممالک میں تقریباً 30 افریقی ممالک، ساتھ ہی ایشیا، کیریبین، اور بحرالکاہل کے ممالک شامل ہیں۔ پاکستان، بھارت، افغانستان، اور ایران خاص طور پر اس لسٹ سے غیر حاضر ہیں، اگرچہ اصل وجہ مختلف ہے — پاکستان اور بھارت کو pilot کے overstay ڈیٹا کی بنیاد پر بس منتخب نہیں کیا گیا، جبکہ افغانستان اور ایران معمول کے سفارتی تعلقات کی کمی کی وجہ سے خارج ہیں۔
Bond Refund کیسے کام کرتا ہے
شامل ممالک کے ان مسافروں کے لیے جن سے bond مانگی جاتی ہے:
- Bond ادا کی جاتی ہے ویزا جاری ہونے سے پہلے، قونصلر افسر کی ہدایت کے مطابق۔
- آپ اپنی مقررہ مدت کے اندر سفر اور قیام کرتے ہیں، اپنے ویزے کی تمام شرائط کی پابندی کرتے ہوئے۔
- آپ وقت پر امریکہ چھوڑ دیتے ہیں، اپنی مقررہ قیام کی مدت ختم ہونے سے پہلے۔
- تعمیل کی تصدیق ہوتے ہی bond واپس کر دی جاتی ہے۔
وقت پر نہ جانا، یا کسی اور طرح ویزا شرائط کی خلاف ورزی کرنا، پوری جمع شدہ رقم ضبط ہونے کا خطرہ رکھتا ہے۔
آخری بات
اگرچہ US Visa Bond Program لسٹ میں شامل 50 ممالک کے درخواست دہندگان کے لیے ایک نمایاں نئی رکاوٹ ہے، ٹورسٹ یا بزنس ویزا کے لیے درخواست دینے والے پاکستانی مسافر اس مخصوص قانون سے متاثر نہیں ہوتے۔ اس کے باوجود، 2026 میں امریکی ویزا پالیسی مجموعی طور پر کافی تبدیل ہو چکی ہے، اس لیے اپنے انٹرویو سے پہلے موجودہ تقاضوں کی — بشمول الگ Visa Integrity Fee — براہ راست US Embassy یا Consulate سے دوبارہ تصدیق کرنا فائدہ مند ہے۔
سرکاری ماخذ: US Department of State — Travel.State.Gov



