اگر آپ نے سنا ہے کہ نادرا نے Pak ID ایپ کے ذریعے پہلا CNIC بنوانے کی سہولت بند کر دی ہے، تو یہ بات مکمل طور پر درست نہیں۔ نادرا نے آج ایک وضاحت جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ آن لائن سہولت اب بھی موجود ہے — بس یہ ہر کسی کے لیے خودکار نہیں۔
- Form B یا CRC کی بنیاد پر Pak ID کے ذریعے پہلے شناختی کارڈ کی درخواست بند نہیں کی گئی۔
- اگر آپ کی تصویر، فنگر پرنٹس اور آئیرس نادرا کے ریکارڈ میں پہلے سے موجود ہیں تو آپ مکمل عمل آن لائن مکمل کر سکتے ہیں۔
- اگر آپ کا بچپن کا ریکارڈ نامکمل بائیومیٹرک ڈیٹا رکھتا ہے تو Pak ID درخواست شروع کر سکتی ہے، لیکن اسے مکمل کرنے کے لیے آپ کو ایک بار نادرا رجسٹریشن سینٹر جانا ہوگا۔
نادرا نے آج کیا واضح کیا
نادرا نے بتایا کہ قانون کے مطابق کسی بھی شناختی کارڈ کے اجراء سے پہلے مکمل بائیومیٹرک ریکارڈ — یعنی تصویر، فنگر پرنٹس اور آئیرس اسکین — موجود ہونا لازمی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کئی پرانے Form B اور CRC ریکارڈز اُس وقت بنائے گئے تھے جب بچوں کا مکمل بائیومیٹرک ڈیٹا رجسٹریشن کے وقت ہمیشہ اکٹھا نہیں کیا جاتا تھا۔ اسی لیے کچھ افراد کا نادرا کے سسٹم میں ریکارڈ تو موجود ہے، مگر وہ آج کے شناختی کارڈ کے تقاضوں کے لیے نامکمل ہے۔
کون اب بھی مکمل آن لائن درخواست دے سکتا ہے
اگر آپ کے بائیومیٹرک تفصیلات پہلے سے آپ کے Form B یا CRC کے ساتھ نادرا کے ریکارڈ میں منسلک ہیں، تو آپ کے لیے کچھ نہیں بدلا۔ آپ Pak ID ایپ کھول کر اپنی پہلی CNIC درخواست جمع کروا سکتے ہیں اور بغیر دفتر جائے پورا عمل مکمل کر سکتے ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ نادرا کے پاس پہلے سے آپ کی تصویر، دسوں فنگر پرنٹس اور آئیرس اسکین آپ کے بچپن کی رجسٹریشن کے ساتھ منسلک ہیں — عام طور پر یہ اُس وقت لیے گئے ہوتے ہیں جب آپ کا Form B یا CRC بنا تھا، یا بعد میں نادرا سینٹر پر اپ ڈیٹ کیے گئے تھے۔
کن لوگوں کو نادرا سینٹر جانا ہوگا
اگر آپ کے ریکارڈ میں مذکورہ بائیومیٹرک ڈیٹا میں سے کوئی حصہ موجود نہیں، تو ایپ خود یہ کام مکمل نہیں کر سکتی۔ آپ Pak ID میں اپنی درخواست شروع تو کر سکیں گے، لیکن اس کے بعد آپ کو اپنی تصویر، فنگر پرنٹس اور آئیرس بائیومیٹرک طور پر ریکارڈ کروانے کے لیے ایک بار نادرا رجسٹریشن سینٹر جانا ہوگا۔ نادرا کے مطابق درخواست گزار اسی ایپ کے ذریعے سینٹر کی اپائنٹمنٹ بھی بک کروا سکتے ہیں، تاکہ بغیر وقت لیے دفتر جانے کی ضرورت نہ پڑے۔
نامکمل بائیومیٹرک ریکارڈ کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کی درخواست ناکام ہو گئی — اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ایک اضافی مرحلہ درکار ہے۔ سینٹر کا وزٹ چھوڑنا، یا بار بار آن لائن دوبارہ درخواست دینے کی کوشش کرنا، آپ کے کارڈ میں مزید تاخیر کا باعث بنے گا۔
آن لائن بمقابلہ ذاتی حاضری: فوری موازنہ
| آپ کی صورتحال | کیا مکمل آن لائن ممکن ہے؟ | آپ کو کیا کرنا چاہیے |
|---|---|---|
| تصویر، فنگر پرنٹس اور آئیرس پہلے سے Form B/CRC کے ساتھ ریکارڈ میں موجود | جی ہاں | براہ راست Pak ID کے ذریعے درخواست دیں |
| پرانا Form B/CRC ریکارڈ جس میں بائیومیٹرک ڈیٹا نامکمل ہے | نہیں | Pak ID میں درخواست شروع کریں، پھر ایپ کے ذریعے سینٹر اپائنٹمنٹ بک کریں |
| بیرون ملک مقیم پاکستانی، بچے کے لیے Form B کی بنیاد پر NICOP کی درخواست | جی ہاں، درخواست کی حد تک | بچے کا بائیومیٹرک ریکارڈ نادرا آفس، سفارت خانے/قونصلیٹ کاؤنٹر، یا اگلے دورۂ پاکستان پر اپ ڈیٹ کروائیں |
بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے: بچوں کا NICOP
نادرا نے تصدیق کی ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے بچوں کے لیے Form B کی بنیاد پر Pak ID کے ذریعے NICOP کی درخواست جاری رکھ سکتے ہیں۔ تاہم چونکہ مکمل بائیومیٹرک ریکارڈ بالآخر ضروری ہوتا ہے، اس لیے نادرا نے بیرون ملک مقیم خاندانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کا بائیومیٹرک ریکارڈ جلد از جلد اپ ڈیٹ کروائیں — چاہے پاکستان میں نادرا آفس پر، بیرون ملک کسی پاکستانی سفارت خانے یا قونصلیٹ کے نادرا کاؤنٹر پر، یا اپنے اگلے دورۂ پاکستان کے دوران۔
- Pak ID ایپ میں معمول کے مطابق اپنی پہلی شناختی کارڈ درخواست شروع کریں۔
- اگر ایپ نامکمل بائیومیٹرک ڈیٹا کی نشاندہی کرے تو اسی ایپ کے ذریعے قریبی نادرا رجسٹریشن سینٹر کی اپائنٹمنٹ بک کریں۔
- مقررہ تاریخ پر سینٹر جائیں تاکہ آپ کی تصویر، فنگر پرنٹس اور آئیرس اسکین ریکارڈ کیے جا سکیں۔
- اس کے بعد آپ کی درخواست اپ ڈیٹ شدہ ریکارڈ کے ساتھ مکمل اور پراسیس کر دی جاتی ہے۔
نادرا کو یہ کیوں درکار ہے
نادرا کا کہنا ہے کہ یہ بائیومیٹرک شرط شناختی کارڈ کے اجراء کو موجودہ قوانین کے مطابق رکھنے، قومی شناختی اور بائیومیٹرک ڈیٹابیس کی سالمیت کو تحفظ دینے، اور فراڈ یا شناخت کے غلط استعمال کے خطرے کو کم کرنے کے لیے موجود ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: کیا نادرا نے Pak ID کے ذریعے پہلی CNIC درخواست بند کر دی ہے؟
نہیں۔ نادرا نے واضح طور پر بتایا ہے کہ یہ سہولت اُن درخواست گزاروں کے لیے اب بھی فعال ہے جن کا بائیومیٹرک ریکارڈ پہلے سے مکمل ہے۔
سوال: اگر میں نے پہلے ہی Form B کے ذریعے درخواست دی تھی تو مجھے سینٹر جانے کے لیے کیوں کہا جا رہا ہے؟
عام طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے Form B یا CRC ریکارڈ میں ابھی تک مکمل تصویر، فنگر پرنٹ اور آئیرس ڈیٹا موجود نہیں — یہ پرانی بچپن کی رجسٹریشنز میں ایک عام مسئلہ ہے۔
سوال: کیا میں سینٹر کا وزٹ چھوڑ سکتا ہوں اگر میں پہلے ہی دو بار آن لائن کوشش کر چکا ہوں؟
نہیں۔ اگر آپ کا بائیومیٹرک ریکارڈ نامکمل ہے تو قانون کے مطابق نادرا کارڈ جاری کرنے سے پہلے سینٹر کا وزٹ لازمی ہے — اس کا کوئی آن لائن متبادل موجود نہیں۔
سوال: کیا اس عمل کی کوئی فیس ہے؟
نادرا کا فیس ڈھانچہ درخواست کی قسم اور پراسیسنگ کی ترجیح (نارمل، اُرجنٹ یا ایگزیکٹو) پر منحصر ہے۔ آج کی وضاحت میں اس کے لیے کوئی الگ فیس بیان نہیں کی گئی، اس لیے درخواست دینے سے پہلے نادرا کی سرکاری فیس ویب سائٹ سے موجودہ فیس ضرور چیک کریں۔
سوال: میں بیرون ملک مقیم پاکستانی ہوں — کیا میں اب بھی اپنے بچے کے لیے Form B کے ذریعے NICOP بنوا سکتا ہوں؟
جی ہاں، نادرا نے تصدیق کی ہے کہ یہ راستہ اب بھی کھلا ہے۔ آپ کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ اپنے بچے کا بائیومیٹرک ریکارڈ جلد از جلد اپ ڈیٹ کروائیں، چاہے پاکستان میں ہو یا بیرون ملک نادرا کاؤنٹر پر۔
---
سرکاری ذریعہ: نادرا – Computerised National Identity Card (CNIC)
یہ خبر یہاں بھی رپورٹ ہوئی: ARY News, 22 اگست 2026



